ENGLISH

وردی پر اصرار سے مشرف صدارت سے بھی محروم ہو جائیں گے : قاضی


اضاخیل پارک : متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد تین بڑے شہروں میں جلسوں میں پرویز مشرف سے زبردست عوامی مہم چلا کر وردی اتارنے کی تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کیا جائے گا - تاریخ نہ دینے کی صورت میں ملک بھر میں مسلسل ہڑتال کے بعد اسلام باد کی طرف مارچ کی کال دی جائے گی ، جس پر شرکائے اجتماع نے

 کھڑے ہو کر ان کے پروگرام کی تائید کی اور پنڈال کافی دیر نعروں سے گونجتا رہا – دسمبر کے بعد وردی پر اصرار سے مشرف کو صدر بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا. خطاب سے پہلے قاضی حسین احمد نے شرکائے اجتماع سے فی سبیل اللہ فنڈ میں عطیات دینے کی اپیل کی - ایک گھنٹے کے مختصر نوٹس پر جماعت اسلامی کے رضاکاروں نے پچاس لاکھ روپے کے عطیات جمع کرائے-
ان خیالات کااظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے اضاخیل پارک نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام کے تیسرے اور خری روز اپنے اختتامی خطاب میں کیا - قاضی حسین احمد نے کہاکہ حکمران جس امریکہ کے اتحادی بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں وہ امریکہ نام نہاد دہشت گردی کی مہم میں پاکستان کے ساتھ کو ایک ’’شارٹ ٹرم ‘‘پالیسی خیال خیال کر تاہے کیونکہ وہ یہاں کی نیو کلیئر صلاحیت اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کی عوامی پذیرائی کواپنے گلوبل ایجنڈے کے لیے خطرہ خیال کرتاہے - قاضی حسین احمد نے کہاکہ مغرب اور امریکہ مسلمانوں کا سکون برباد کر کے عدل و مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں - انہوں نے کہاکہ خود یورپ اور امریکہ کے لاکھوں عوام جنگ کے خلاف مظاہرہ کر چکے ہیں -مسلمان دہشت گردی کے خلاف ہیں مگر مغرب انہیں میڈیا وار کے ذریعے دہشت گردی کے ساتھ نتھی کر رھا ہے -
قاضی حسین احمد نے کہاکہ ہمیں کہا جاتاہے کہ ہم ملک میں افراتفری چاہتے ہیں - اگر ایسی بات درست ہوتی تو ہم لاہور میں پوری تیاریوں کے باوجود اجتماع عام کی اجازت نہ ملنے پر وہیں زبردستی پروگرام کرتے مگر جماعت اسلامی نے تصادم کی راہ اپنانے کی بجائے اس یہاں اضاخیل میں مختصر نوٹس پر اجتماع عام کا اہتمام کیا جس پر اجتماع کے منتظمین کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے - انہوں نے کہاکہ ہم دستور اور جمہوری روایات کی پاسدارسیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات ختم کر کے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمارا ساتھ دیں اور ملک کو فوجی آمریت سے نجات دلائیں - انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کی وردی میں رہنے کی ضد ملکی استحکام اور سا لمیت کے لیے خطرے کا باعث ہے - وہ جن حالات کی بنا پر وردی میں رہنے پر اصرار کر رہے ہیں دراصل خود ان کے پیدا کردہ ہیں - جب تک وہ وردی اور اقتدارسے چمٹے رہیں گے یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے - انہوں نے وردی سے متعلق اسمبلیوں کی قراردادوں کو جمہوری روایات کی شرمناک خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند’’ سیاسی یتیم ‘‘ وردی کی پیداوار ہیں اور اسی کو اپنی ’’بقا‘‘ کی ضمانت کرتے ہیں -انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف ملک کے نمائندے نہیں ہیں - امریکہ یا مغرب کو ان سے ڈائیلاگ کا کوئی حق نہیں ہے وہ پرویز مشرف سے جہاد نظام تعلیم میں تبدیلی اور مدارس پر پابندی جیسے اقدامات کے ذریعے عوامی نفرت مول لے رہا ہے - انہوں نے کہاکہ ہم امریکہ سے اپنے ہوائی اڈے خالی کرا کر دم لیں گے -
قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے امریکہ کو خبردار کیاہے کہ وہ وردی کے مسئلے پر پرویز مشرف کی حمایت کر کے پاکستانی عوام کی ناپسندیدگی مول نہ لے - اضاخیل پارک نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے اجتماع کے تیسرے اور آخری روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں کے خلاف کوئی بھی غیر آئینی کاروائی امریکہ کی انگیخت پر خیال کی جائے گی - انہوں نے ان دونوں صوبوں کی اسمبلیوں کو وردی کے مسئلے پر پرویز مشرف کے موقف کی حمایت نہ کرنے پر سلام کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت جلد ہی سارے ملک میں بھی قائم ہو گی - انہوں نے کہاکہ مشرف صاحب کو صرف کرسی چاہیے - انہوں نے عدالتوں سے مخاطب ہو کر کہاکہ ان کو یہ تاثر زائل کرنا چاہیے کہ اعلی عدالتوں کے فیصلے دبائو کے تحت کیے جاتے ہیں - انہوں نے کہاکہ ھم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت پر چلنا چاہتے ہیں - پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ دراصل آئینی مطالبہ ہے کیونکہ اسلام ملک کے ئین کی اساس ہے - کسقدر ظلم کی بات ہے کہ آئین کے اطلاق کا مطالبہ کرنے والا دہشت گرد اور اس کا راستہ روکنے والا حب الوطن ہے - مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ افغانستان اور عراق میں جہاں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھ معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں وہاں انتخابات کی بات کی جارہی ہے اور اس کی لیے امریکہ اربوں ڈالر پانی کی طرح بہا رہاہے - این جی اوز کی حمایت کے ذریعے لوگوں میں پیسہ تقسیم کیا جارہاہے اور سرحد میں ہزاروں بوگس ووٹ درج کر کے افغانستان کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے - انہوں نے کہاکہ استعمار نے امت مسلمہ پر حملہ کررکھا ہے اور وہ اس کی تہذیبی آزادی خود مختاری سرزمین وسائل اقتصادی اور معاشی وسائل پر حملہ آور ہے - استعمار چونکہ مادی فوجی حربی اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے مستحکم ہے اس لیے وہ مظلوموں کی آواز نہیں ابھرنے دے رہا - انہوں نے حاضرین کو کہاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں اور متحدہ مجلس عمل نے پوری امت مسلمہ کو اس ضمن میں ایک ماڈل مہیا کر دیا ہے - پروگرام کا اختتام قاضی حسین احمد کی دعا کے ساتھ ہوا -