ENGLISH

امت متحد ہو کر چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہے : مقررین قومی سیشن


اضاخیل : امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر سردار اعجاز افضل خان نے جماعت اسلامی کے کل پاکستا ن اجتماع عام کے تیسرے روز اور خری روز اضاخیل پارک نوشہرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فوجی قیادت گزشتہ 5 سال سے اپنی اصل ذمہ داری یعنی کشمیر زاد کروانے کی بجائے اسلام باد فتح کرنے میں مصروف ہیں جبکہ بھارت سے مذاکرات کر کے قوم کو بے احترام کیا جا رہا ہے - انہوں نے کہاکہ دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی مہم جاری ہے - پاکستان بننے کے موقعہ پر کشمیریوں نے من حیث القوم پاکستان کا حصہ بننے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن ایک سازش کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد زادی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جا کر سبوتاژ کر دیا گیا -اعجاز افضل نے کہاکہ ملک کی عسکری قیادت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ کشمیر کو آزاد کروانے کی بجائے انہوں نے ملک کا مشرقی بازو گنوا دیا - اب کشمیر کا نوجوان سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین کی قیادت میں اٹھ کھڑا ہواہے - نوے ہزار کشمیریوں کی جانوں اور آ سے زائد خواتین کی عصمتوں نے اس مسئلے کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر مرکز توجہ بنا دیاہے -
 

     


 انہوں نے خبردار کیاکہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے ذرا برابر انحراف بھی پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا - بھارت کے ساتھ مذاکرات کا واحد ایجنڈا کشمیر ہونا چاہیے تجارت سیاچن یا دوسری چیزیں نہیں- انہو ں نے حکمرانوں کو کہاکہ اسلام کشمیر اور نیو کلیئر صلاحیت پر کمپرومائز کرنے والے حکمران ج واپسی کو ترس رہے ہیں اور اگر کسی اور نے ایسی جرآت کی تو ان کا حشر بھی یہی ہو گا - انہوں نے ’’ کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ کے فلک شگاف نعروں میں اعلان کیاکہ ’’ دھا نہیں پورا کشمیر ہمار ا ہے -‘‘

     


ایران سے آئے ہوئے مہمان مقرر اور ایرانی صدر کے نمائندے آیت اللہ سید محمدعلی ایازی نے کہا کہ مسلمانوں کو علم ودانش میں کامیابی حاصل کرنی چاہئے اسی طرح سے امت کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے- کے انہوں کہا کہ سیالکوٹ میں مسجد بم دھماکہ میں تیس افراد کی شہادت کے باعث اجتماع عام میں شامل نہیں ہو سکے تھے - وہ اتوار کے روز اجتماع گاہ پہنچے - قاضی حسین احمد نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ دشمن قوتیں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مختلف سازشیں اور دہشت گردی کرا رہی ہیں - اپنے خطاب میں آیت اللہ سید محمد علی نے کہاکہ دشمنان اسلام مسلمانوں پر جگہ جگہ حملے کر کے ان کا خون بہا رہے ہیں - خاص طور پر القاعدہ اور افغانستان میں حملے بہت شدید ہیں - مگر جو حملے ثقافتی محاذ پر مغرب کر رھاہے ان کا مقصد نئی نسل کو گمراہ کر کے اسلام سے برگشتہ کرنا اورعقائد سے دور کر کے دشمنوں کے لیے نرم چارہ بنانا ہے - انہوں نے اپیل کی کہ مسلمان دنیا کے کونے کونے میں متحد اور اکٹھے ھو جائیں اور دشمنوں کی سازشوں پر نظر رکھیں تاکہ ان کو بروقت ناکام بنایا جائے -
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے سینئرنائب اور کلاچی سے ممبر قومی اسمبلی حکیم گل رحمن نے کہا کہ اس اجتماع میں جوانوں کا جذبہ دیکھ کر محسوس ہو تا ہے کہ مغربی تہذیب اب ہمیں گمراہ نہیں کر سکے گی - انہوں نے امریکہ کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دیا کہ جس نے عراق افغانستان اور دنیا کے دوسرے حصوں کو بموں سے تباہ کر دیاہے اور آج اسے مسلمانوں کے ردعمل پر بڑا دکھ ہوتاہے یہ مگر مچھ کے نسو رونے کے مترادف ہے -انہوں نے مطالبہ کیاکہ ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر بھٹو نواز شریف کو جنہوں نے اسلام کے منافی ترامیم ئین میں کرائی ہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے - مجل عمل سے معافی کا مطالبہ بے معنی ہے کیونکہ انہوں نے ڈکٹیٹر سے نجات اور جمہوریت کی وایپسی کے لیے ترمیم کی حمایت کی ہے - انہوں نے کہاکہ جب تک بے نظیر اور نواز شریف مکمل طور پر تائب ہو کر ہمارے ساتھ نہیں جاتے ہمیں وردی کے خلاف اپنی تحریک میں ان کو شامل نہیں کرنا چاہیے -انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے یہ عظیم الشان اجتماع عام منعقد کر کے نوجوانوں کو مغربی تہذیب کے جالوں سے بچنے کا راستہ دکھایا ہے - انہوں نے کہاکہ مجلس عمل آئندہ الیکشن میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی - انہوں نے امریکہ اور اس کے حواریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو بلادریغ قتل کرر ہے ہیں اور خود کو’’ مہذب قوم ‘‘بھی ثابت کر رہے ہیں -
سابق سربراہ آئی ایس ئی جنرل (ر) حمید گل نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم مغرب سے تہذیبوں کے تصادم کی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتے ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ مغرب مسلم حکمرانوں کے بجائے ان مزاحمت کاروں سے ڈائیلاگ کرے کہ جو دراصل مغرب کی متصعب پالیسیوں کے باعث دنیا میں نفرت کا شکار بنے ھوئے ہیں - انہوں نے کہاکہ دنیا میں مادی طاقت اور اخلاقی قوتوں کے حامل افراد کے درمیان جو معرکہ آج ہمیں درپیش ہے وہ اپنی مثال ہے - انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے پاس نیو کلیئر صلاحیت اور جذبہ جہاد اس دور کے ایسے ہتھیار ہیں کہ جن کے حسن امتزاج کو دیکھ کر مغرب اور امریکہ ہم سے مکالمہ پر مجبور ہو گا - انہوں نے کہاکہ تہذیبوں کی جو جنگ امریکہ نے شروع کر رکھی ہے اس کو ہم اسلام کے عالمی پیغام امن کی بنا پر ہم بند کریں گے -
جماعہ الدعوہ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ یہودی اور عیسائی اس وقت پاکستان کی سوشل انجینئرنگ کر رہے ہیں تاکہ اسے اسلام سے دور اور مغرب و بھارت سے قریب کر دیا جائے - یہ عظیم الشان اجتماع بش اور اس کے حواریوں کے لیے ایک چیلنج ہے اس سے ان کے دل لرز رہے ہیں اور سامراجی یہودی خوفزدہ ہو چکے ہیں - انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کا اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی مسلمان مشرف کے اعتدال پسند اسلام کی نہیں بلکہ اللہ کے اسلام کو پسند کرتے ہیں - انہوں نے متنبہ کیاکہ جب تک کشمیر سے بھارتی فوج نہ نکلے فلسطین سے یہودی نہ نکلیں اور عراق و افغانستان سے امریکی فوجیں نہ نکلیں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے بلکہ صرف جہاد ہو گا - انہو ں نے جماعہ الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید کی جانب سے یقین دلایا کہ جماعت الدعوة کے کارکنان جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ اسلام کی بقا اور پاکستان کے دوام کے لیے کوششوں کا ساتھ دے گی - انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کا دفاع اب پاکستان کے کندھوں پر ہے کیونکہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی نظریں پاکستان پر لگی ہو ئی ہیں -
حکمران جماعت کی طرف سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے سینئر نائب صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہاکہ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ اس میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتاہے - انہوں نے کہاکہ دینی جماعتیں مل کر دین کو بدنام کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیں - دینی جماعتیں صرف اور صرف دین ہی نہیں سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کر رہی ہیں - یہ جمہوری عمل چلانا چاہی ہیں یہ عمل سے جمہوریت اور دستور کی سربلندی کے لیے کام کر رہی ہیں -ایم ایم اے نے روا داری اور اعتدال کا راستہ اختیار کیا ہے - ایم ایم اے حکومت کی بی ٹیم نہیں بلکہ یہ مروت اور حکمت اور خیر سگالی کے جذبات پر عمل پیرا ہے - انہو ں نے کہاکہ ہم سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت چاہتے ہیں - انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی نیو کلیئر صلاحیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا – اجتماع سے جمیت اہلحدیث کے رہنما مولانا معین الدین لکھوی نے بھی مختصر خطاب کیا -