ENGLISH

مجلس عمل کی سرحد حکومت کارگردگی رپورٹ تسلی بخش ہے: سراج الحق

اضاخیل : دوسرے سیشن میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر و سینئر وزیر سراج الحق نے سرحد حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ لوگوں کو گلہ ہے کہ مرکزکی نیم فوجی اور پنجاب حکومت نے لاہور میں جماعت اسلامی کو اجتماع عام کی اجازت نہ دی لیکن ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پورے پاکستان اور دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے لوگ یہاں تشریف لائے ہیں جو سرحد میں اسلامی حکومت کے قیام اور استحکام کا مزید باعث بنے گا.

 انہوں نے کہاکہ ماضی میں دینی جماعتوں کے ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے لبرل اور لسانی جماعتوں نے بار بار حکومتیں کیں لیکن کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے ناکام ہوئیں اور جب دینی جماعتوں نے پس میں اتحاد کیا تو تمام لبرل اور لسانی جماعتیں ناکامی سے دوچار ہو گئیں - انہوں نے کہاکہ سرحد نے ہمیشہ اسلامی تحریکوں کی پذیرائی کی - یہ اسلام دوست اور مجاہدین کا صوبہ ہے اور آج بھی اس صوبے کے ہزاروں شہدا کی لاشیں سرینگر اور کشمیر کے چپے چپے میں موجود ہیں - انھوں نے کہا کہ سرحدحکومت قائم رہے گی کوئی اس کو ختم نہیں کر سکتا کیونکہ ہماری پشت پر عوام مسجد منبر و محراب ہیں - وہ لوگ ختم ہو جائیں گے جو ایم ایم اے کی حکومت کو ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں اور یہ روشنی اٹک پار کر کے پنجاب کے میدانوں اور سندھ کے ریگستانوں تک پہنچے گی اور کوئی اس کا راستہ نہیں روک سکتا -
سراج الحق نے کہاکہ شریعت بل نفاذ صلوة معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کے لیے قوانین فحاشی و عریانی کا خاتمہ شراب جوئے پر پابندی خواتین کے حقوق کے لیے اقدامات عوام اور حکمرانوں میں فاصلے ختم کرنا دراصل شریعت کے نفاذ کا حصہ ہے - آج سرحد کے کسی شہر میں کسی قسم کی عریانی و فحاشی نہیں نظر ئے گی نہ کوئی عریاں بورڈ نظر ئے گا - انہوں نے کہاکہ ہم نے سرحد سے بلاسود بینکاری کا غاز کیا اندرونی و بیرونی قرضوں سے نجات کی پالیسی پر عمل کیا بڑے ہوٹلوں میں سرکاری تقریبات پر پابندی لگائی ہے اور یہ واحد حکومت ہے جس نے عام ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور وزرا کی تنخواہوں میں کمی کر کے ثابت کر دیا کہ ہم عوام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں - ہم نے صوبہ سرحد میں سرکاری خرچ پر نئی گاڑیایوں پر پابندی لگائی ہے - ایک سابق وزیر نے لاہور کے دورہ میں تین لاکھ اور میں نے بھی دورہ کیا صر ف 40 روپے خرچ کیے - انہوں نے کہاکہ سودسے پاک پہلا سرکاری بنک ایم ایم اے کی حکومت نے قائم کیا جس نے آٹھ ماہ میں سودی بنک کے چھ سالوں کی کمائی سے زیادہ نفع کمایا ہے - ج کوئٹہ میں نئی اسلامی برانچ کا افتتاح ہو رہاہے اس کے بعد بنوں نوشہرہ کراچی اور لاہور کا نمبر ہے - ایک ایک شہر میں سودی معیشت کو ختم کرتے جائیں گے -ہم نے تعلیمی بجٹ میں 3 فیصد اضافہ کیا ہے - میٹرک تک تعلیم کو مفت کیا - پنجاب حکومت نے ہماری تقلید کی ہے - ہم نے پرائمری کے بعد اب میٹرک تک تمام طالبات کو مفت کتب فراہمی کا فیصلہ کیاہے - انہو ں نے کہاکہ ہم نے پہلی خواتین یونیورسٹی اور گرلز میڈیکل کالج قائم کیاہے - ایک سال میں 40 ہزار اساتذہ بھرتی کیے - سیدو اور گومل میڈیکل کالجز کی منظوری حاصل کی - تمام میڈیکل پروفیشنل کالجز سے سیلف فنانس سکیم کا خاتمہ کر دیا تاکہ بچے قابلیت صلاحیت کی بنیاد پر گے بڑھیں - ہم نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کیں - ہسپتالوں میں غریب اور امیر کا فرق ختم کیا - ایمر جنسی علاج مفت کر دیا - مہلک افراض کے مریضوں کے لیے پانچ سو ملین کا فنڈ مختص کیا ہے - سرحد کے 12 اضلاع میں بین الاقوامی معیار کے ہسپتال تعمیر کیے جارہے ہیں - انہوں نے کہاکہ ہم پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا جاتاہے حالانکہ ہم ہی خواتین کے حقوق کے حقیقی علمبردار ہیں - ہم غیر اسلامی رسوم ’’سورہ ‘‘ کو ختم کیا ، وراثت میں حق دلایا - الگ سپورٹس ڈائریکٹوریٹ قائم کرایا - 10 دستکاری سکول قائم کیے - جیل میں شوہروں سے ملنے کی اجازت دی - انہوں نے کہاکہ سرحد میں گندم اور آ ٹے کا بحران پیدا نہیں ہونے دیا بلکہ لوگوں کو سستا ٹا فراہم کیا - حالانکہ پنجاب نے گندم پر پابندی لگائی اور اسلام باد جیسے شہر میں آٹا کم پڑ گیا - انہوں نے کہاکہ صوبہ میں امن و امان کی صورتحال سب سے بہتر ہے - کانوائے سسٹم کو ختم کیا بے روزگاری کے خاتمے کے لے 4 سو تعلیم یافتہ کو سکولز میں 3 سو پولیس 20 سے زائد پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بیس ہزار گریجوایٹس کو ملازمتیں دینے کے لیے تعلیم بالغاں کے مراکز قائم کیے - دس ڈیم بنا رہے ہیں جس سے ایک لاکھ لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی - مالاکنڈ تھری ہائیڈل پراجیکٹ سے 7 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی - 1 سو ڈاکٹر بھرتی کیے - ہم نے صوبے کے حقوق کی کامیاب جنگ لڑی - ایک فلاحی بجٹ پیش کیا - 98ء کے بعد سے ہماری حکومت کے نے تک صرف چھ ارب کا ہائیڈل پرافٹ ملتا تھا ہم نے اس کو 8 ارب کر دیا ہے اور بقایا جات کے لیے ثالثی کمیٹی بنوا دی ہے - انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے بجلی کا منافع کے آٹھ ارب سالانہ عبوری منافع دینے کا اعلان کیا لیکن ابھی اس کا نوٹیفیکیشن نہ کیا گیا - ہم اس اجتماع کے ذریعے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرحد کو اس کا حق دیا جائے - انہوں نے کہاکہ ہمارے ایک ایک ایم پی اے کے گرد ایجنسیوں والے منڈلا رہے ہیں - ایک غریب ایم پی اے نے ایمان اور اسلام بیچنے کے لیے دو کروڑ کی پیشکش ٹھکرا دی - انہوں نے کہاکہ جب تک مرکز میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی نہ عدالتوں میں انصاف ملے گا اور نہ قر ن کے مطابق فیصلے ھوں گے - انہوں نے کہاکہ فوج عدالت ریڈیو ٹی وی اور معیشت مرکز کے پاس ہیں لیکن پاکستان میں اسلام کی روشنی خیبر سے نکلے گی اور اس کا غاز ہو چکاہے - وہ دن دور نہیں جب پورے پاکستان میں اسلامی حکومت ہو گی اور اسلامی قوانین نافذ ہوں گے –