| ملک میں ایمرجنسی کے روپ میں مارشل لاء نافذ ہے کیونکہ ایمرجنسی چیف جسٹس کو سبکدوش کرنے کا اختیار نہیں دیتی : قاضی حسین احمد |
متحدہ مجلس عمل پاکستان کے صدر اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے اللہ سے وعدہ کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ میری جان تیرے راستے پر میری جان و مال اور اولاد سب کچھ حاضر ہے میری اس قربانی کو قبول کر لے - انہوں نے کہا کہ جب تک ئین کو توڑنے والوں کو آئین و قانون کے مطابق پھانسی نہیں دی جاتی آئین کو توڑا جاتا رہے گا - اس کے لئے قربانی دینا ہو گی ہم کوئیآئین و قانون کے خلاف بات نہیں کر رہے -
اس امر کااظہار انہوں نے شامکے بھٹیاں میں جماعت اسلامی کے ارکان و امیدوارن کے تین روزہ اجتماع سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا - اجتماع سے جماعت اسلامی کے نائب امراء لیاقت بلوچ پروفیسر غفور احمد جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا - اس موقع پر قاضی حسین احمد نے پیر کے روز ملک بھر میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کا بھی اعلان کیا اور جماعت اسلامی کے ارکان کو ہدایت کی کہ ہر ضلع اور تحصیل ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرے کریں اور جماعت اسلامی کے ارکان خود کارکنوں کی قیادت کریں - انہوں نے کہا کہآئندہ اس شکایت کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے کہ جماعت اسلامی کے ارکان خود سڑکوں پر نہیں آئے - انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اس وقت امریکی مفادت کی جنگ لڑ رہے ہیں اس مقصد کیلئے پاکستان کی فوج اور وسائل کو اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جس کا مقصد یہاں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر امریکہ یورپ اور بھارت کی تہذیب کو فروغ دینا ہے -
انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کے عوام ج بھی غلام ہیں اور فوجی و سول اسٹبلشمنٹ انہیںآزادی دینے کیلئے تیار نہیں ہے - خود جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے اپنی نشری تقریر میں کچھ الفاظ خصوصی طور پر انگریزی میں ادا کرتے ہوئے امریکہ یورپی یونین اور دولت مشترکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہاں ان کی طرح جمہوریت قائم نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہاں عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جا سکتے ہیں - انہوں نے باور کروایا کہ ہم آج بھی ذہنی طور پر غلام ہیں اور اپنے عوام کو جب چاہیں پکڑ کر عقوبت خانوں میں ڈال سکتے ہیں -
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے قریب ایک عقوبت خانے میں قید کئے جانے والے ایک قیدی نے خود مجھے بتایا کہ وہ پہلے گوانتانا موبے میں قید تھا اور اس جیل سے آنے والے قیدی دعا کرتے تھے کہ اللہ اس سے بہتر ہے کہ ہمیں گوانتاناموبے میں ہی لے جا کیونکہ انگریزوں کا ان سے سلوک یہاں سے تو بہتر تھا - انہوں نے کہا کہ دہشت گرد خود جنرل پرویز مشرف ہے جس نے وزیرستان، باجوڑ، سوات، جامعہ حفصہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں معصوم بچوں خواتین اور بے گناہ شہریوں کا خون بہایا - قاضی حسین احمد نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے روپ میں مارشل لاء کا نفاذ کر کے عدلیہ پر شب خون مارا ہے - کیونکہ ایمرجنسی کے تحت چیف جسٹس کو سبکدوش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی بنیادی حقوق معطل کئے جا سکتے ہیں -انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف سے آزادی حاصل کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح کسی غیر ملکی یا کافر حکمران سے -
قاضی حسین احمد نے ارکان جماعت اسلامی سے کہا کہ وہ اس ظلم کے نظام کے خلاف جذبہ جہاد اور شہادت کے تحت باہر نکلیں جس طرح کشمیر فلسطین،افغانستان اور عراق میں مسلمان انتہائی مشکل حالات میں آزادی کی تحریکوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں - انہوں نے کہا کہ میں آ ج ہی ظلم کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتا ہوں - انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تمام ارکان و کارکنان نماز فجر کے وقت ’’ قنوت نازلہ ‘‘ کا ورد کریں وہ یہ اعلان متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے بھی کروائیں گے - قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہم جسٹس افتخار محمد چوہدری اور پی سی کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے ان پر لعنت بھیجتے ہیں جس پر خاضرین نے ’’لعنت لعنت ‘‘کے نعرے لگائے - انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے فورا بعد ایمرجنسی کو کالعدم قرار اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرنے کے فیصلہ پر بھی سپریم کورٹ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے - ایک ملک میں دو چیف جسٹس نہیں ہو سکتے ہم جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتے آ ج بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی ہیں - انہوں نے جماعت اسلامی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ کل ہر ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرے کریں اور وکلاء سے مکمل اظہار یکجہتی کریں - انہوں نے کہا کہ ملک کوآمریت سے نجات دلانے کے لئے جلسہ اسلامآ باد کی جانب مارچ کرنے کی کال بھی دی جائے گی -جماعت کے ارکان اور کارکنان فوری طور پر اس کی تیاری کریں اور پلاننگ کریں کہ رکاوٹوں کو عبور کر کے انہوں نے کس طرح اسلام آباد جمع ہونا ہے -انہوں نے کہا کہ اگر کسی دوسری سیاسی جماعت نے ساتھ نہ بھی دیا تو جماعت اسلامی اکیلی اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی - انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کوآئین کےآرٹیکل چھ کے تحت سزاد ی جائے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا جرنیل آئین کو توڑتے رہیں گے -
امیر جماعت نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چووہدری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر جج قوم کے ہیرو ہیں جماعت اسلامی کے ارکان و کارکن انہیں گھروں پر جا کر پھول پیش کریں - انہوں نے کہا کہ لوگ آمریت کے خلاف جدوجہد میں موت سے نہ ڈریں کیونکہ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے - انہوں نے جماعت اسلامی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ یہ یونین کونسل میں کم از کم 20 افراد کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیلئے تیار کریں اور اس مقصد کیلئے مسجد میں با جماعت ادائیگی کو شیوا بنائیں - انہوں نے اجتماع میں شریک ارکان سے میدان عمل میں نکلنے کا وعدہ لیا اور یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ہفتہ میں کم از کم ایک بار گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ جمع ہوں اور معاملا ت پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں - جس کے بعد قاضی حسین احمد نے اختتامیہ دعا بھی کروائی - |
| |
| ارکان جماعت کے سوالات ۔۔۔ امیر جماعت اسلامی کے جوابات |
| |
| جماعت اسلامی کا اجتماع ارکان و امیدواران کے دوسرے روز تنظیمی امور اور مسائل پر بحث |
| |
| جماعت اسلامی کے اجتماع ارکان میں منظورکی جانے والی قرار دادیں |
| |
| قاضی حسین احمد اور دیگر ارکان کا شاہد شمسی کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت |
| |
| جماعت اسلامی کے اجتماع کا دوسرا دن ارکان جماعت کے لیے مخصوص رہے گا۔ |
| |
| جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع ارکان وامیدواران کے پہلے دن کی جھلکیاں۔ |
| |
| اجتماع کے پہلے روز کے آخری پروگرام میں سوال جواب کاسیشن ہوا۔ |
| |
| جماعت اسلامی قوم کی امید ہے، یہ قوم کو منزل تک پہنچاے گی: امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد |
| |
| جنرل پرویزمشرف ملکی تاریخ کے غیرمقبول اور ناکام ترین حکمران ہیں:لیاقت بلوچ |
| |
|
|