ENGLISH

آئین کی پامالی پر مشرف پھانسی کے مستحق ہیں: لیاقت بلوچ

اجتماع عام سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ایم این اے نے ’’ پاکستان میں آ ئینی بحران ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کسی فوجی قیادت یا اسٹیبلشمنٹ نے آزاد نہیں کرایا - انہوں نے کہاکہ ہماری تاریخ ایسی سیاہ کاریوں سے بھری پڑی ہے کہ فوجی قیادت جب اقتدار سنبھالتی ہے تو آ ئین بھی پامال ہوتاہے اور قیام

 پاکستان کے مقاصد سے بھی انحراف ھوتاہے - ایوب خان فوجی ڈکیٹیٹر جبکہ یحیی خان پاکستان کا بدترین فوجی حکمران تھا - ضیاء الحق پاکستان کی تاریخ کا طالع زما تھا – یکم اکتوبر 99 کو جنرل پرویز مشرف نے آ ئین سے ماورا اقدام اٹھا کر آ ئین اور جمہوریت کی روایات کو بھی پامال کیا اور عوام کے جذبات کے خلاف اقتدار زبردستی سنبھالا - سپریم کورٹ نے اقتدار کے انتقال اور جمہوریت کی بحالی کے لیے روڈ میپ دیا - انہوں نے کہاکہ ظفر علی شاہ کیس عدلیہ کی تاریخ کا اہم ترین کیس ہے - جنرل پرویز مشرف نے تین سالہ دور میں یکطرفہ طور پر آ ئین میں ترامیم کیں - ان ترامیم کے ذریعے جنرل مشرف کی کوشش تھی کہ ملک کی پارلیمنٹ پر مکمل طور پر فوجی بالادستی قائم ہو اور ترکی کی طرح فوج کے آ ئینی کردار کو سیاست میں تسلیم کیا جائے لیکن الیکشن سے پہلے اور بعد میں ایم ایم اے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ایل ایف او کے خلاف احتجاج کیا اور آ ئین اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی بحالی کی تحریک مسلسل شروع کی - لیاقت بلوچ نے کہاکہ سترھویں ترمیم کی دو اہم باتیں یہ تھیں کہ جنرل مشرف صدارت اور آ رمی چیف کا عہدہ ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے لیکن ہم نے یہ طے کیاکہ ماضی میں بھی جرنیل زبانی وعدے کرتے رہے ہیں اس لیے ہر چیز اس کو تحریری شکل میں لائیں - ایک آ ئینی پیکج بنایا گیااور آ ئین کے آ رٹیکل 4  کے تحت اس شرط کو تسلیم کیا گیاکہ صدر مشرف 3 دسمبر4 200 ء تک وردی ختم کر دیں گے اور ریفرنڈم نہیں بلکہ صدارت کی مدت میں توسیع کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے - انہوں نے کہاکہ اے آ ر ڈی والے کہتے ہیں کہ سترھویں ترمیم ختم کی جائے لیکن بھٹو ضیاء الحق اور نواز شریف دور کی ترامیم بھی اختلافی تھیں لیکن پارلیمنٹ کے اختلافات کے باوجود وہ آ ئین کا حصہ بنیں - اے آ ر ڈی والے کیا نشستوں اور خواتین سیٹوں مخلوط انتخابات اور اقلیتوں کی نشستوں کا خاتمہ چاہتے ہیں؟ ججوں کی مدت ملازمت کی توسیع چاہتے ہیں ؟ نیشنل سیکورٹی کونسل کو آ ئین کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہاکہ مسئلہ فوجی حکمرانوں کے وعدوں سے انحراف کا ہے - وہ آ ئین سے بغاوت کرنا چاہتے ہیں – 73 کےدستور کو توڑ نا چاہتے ہیں - پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں- آ ئیے اس طالع زما کا ہاتھ روکیں - کوئی آ ئینی سقم نہیں. سترھویں ترمیم میں وردی کی گنجائش نہیں - جھوٹ دھوکہ سے قوم کو گمراہ کر کے یہ لوگ بغاوت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ھیں – آج امریکہ ان حکمرانوں کا دلدادہ ہے - انہوں نے کہاکہ 30 دسمبر 2004 ء وردی کی ڈیڈ لائن ہے اگر اس معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو جنرل مشرف صدارت اور آرمی چیف کے دونوں عہدوں کے لیے نااہل ہو گا اور جو شخص قوم سے فریب کرے اور دھوکہ دے اس سے بڑا سیاسی جھوٹ نہیں ھو سکتا - 30 دسمبر تک اسے سترھویں ترمیم پر عمل کرنا ہو گا یا اسے عوامی مزاحمت یا دونوں عہدے چھوڑنے کے لیے تیار ہونا چاہیے - پاکستان کے عوام دھوکہ باز شخص کو اپنے اوپر قبول نھیں کریں گے جو تحریری معاہدوں اور قوم کے ساتھ وعدوں سے انحراف کرے - انہوں نے کہاکہ ایک شخص جو دوسری مرتبہ آئین سے انحراف کر ے ہمارا اعلان ہے کہ قوم ایسے شخص کو قبول نہیں کرے گی - ایسے شخص کو تحفظ دینا عوام کے لیے ممکن نہیں ہوگا - ایسا کرنا امریکہ کے لیے بھی آ سان نہیں ہو گا - اگر آئین سے انحراف کیا گیا تو آ ئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آ ئین سے غداری کی سنگین پامالی کے مرتکب جنرل مشرف موت کا حقدار بنے گا –