ENGLISH

جنرل پرویز مشرف کا جانا ٹہر گیا ہے: سید منور حسن

اضاخیل: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر سینیٹر خورشید احمد نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے معاشی اور اقتصادی طور پر عالم اسلام اور تیسری دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے - عالم اسلام کو اس کے خلاف جہاد کرنا ہو گا - وہ اضاخیل میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں دوسرے روز کے سیشن سے خصوصی خطاب کر رہے تھے. انہوں نے کہاکہ قرآن نے حکم دیا ہے کہ قوت کو بڑھائیں - جہاد کے بعد مسلمانوں کو مالی قوت کے حصول کی

کی کوشش کرنا ہو گی - مسلمانوں نے جہاد کو ترک کر دیا اور اس نے مغرب کی بالادستی قبول کر لی ہے جس کی وجہ سے مسلمان ممالک مغرب کے غلام بن گئے ہیں - دنیا کے 8 فیصد وسائل پر مغرب کا قبضہ ہے - تیسری دنیا کے وسائل پر بھی معاشرتی ترقی کے نام پر قبضہ کر لیا گیاہے - ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں جس کے ذریعے بظاہر مقامی حکمرانوں کی شکل میں مغرب کی حکومتیں قائم کی گئیں - انھوں نے کہاکہ 14 ء تک برطانیہ ہندوستان کا مقروض تھا - قرضے کے نام پر پالیسیوں کو گرفت میں لے کر تیسری دنیا کی منڈیوں پر قبضہ کیا جاتاہے جس کے نتیجہ میں تیسری دنیا 10 بلین ڈالر کی مقروض ہوئی - انہو ں نے کہاکہ ہم پر 18 ء تک 6 بلین ڈالر کا قرضہ تھا جس میں سے تین بلین ڈالر ادا کر دیا ہے - اب بھی اڑھائی بلین ڈالر کا قرضہ ہم پر مسلط ہے جس سے نجات کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ تا - انہوں نے کہاکہ گلابلائزیشن آزاد معیشت آزاد تجارت سب خوشنما نعرے ہیں جو دراصل غریب ممالک کے خلاف جنگ ہیں - پروفیسر خورشید احمد نے کہاکہ دنیا پر پانچ سو ملٹی نیشنل کمپنیاں تجارت و اقتصادیات پر قابض ہیں جس کی وجہ سے صورتحال یہ ہے - 15 بلین لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں - مسلمانوں کے لیے نجات کار استہ یہی ہے کہ وہ اپنی اجتماعی خود انحصاری کی پالیسی کو اپنائیں جس کے لیے انہیں پہلے ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنا ہو گی - بظاہر ان لوگوں کے پاس فوجی قوت بہت زیادہ نظر آتی ہے لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج موجود ہے لیکن وہ نہتے کشمیریوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ہے - ایسی صورتحال عراق میں ہے اس لیے جدوجہد سے گھبرانا نہیں چاہیے - مسلمانوں کا 13 بلین ڈالر کا سرمایہ مغرب کے قبضے میں ہے - یہ سرمایہ مسلمان اپنی ترقی خوشحالی پر خرچ نہیں کر سکتے - اس کے باوجود اگر مسلمان حکمرانوں کی نکھیں نہ کھلیں تو ایک وقت آ ئے گا یہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کو اپنے رب کو پہچانو اور محمد کے جھنڈے تلے متحد ہو جائیں -