ENGLISH

مشترکہ مسلم کرنسی و منڈی وقت کی اہم ضرورت ہے


اضاخیل پارک: جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام میں دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے- امت مسلمہ کے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ظلم، جبر اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقابلہ کر نے کے لئے امت مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے- اس کے لئے مشترکہ منڈی اور مشترکہ کرنسی اور تنظیم نہایت ضروری ہے جو اگرچہ مشکل دکھائی دیتا ہے مگر اس کی طرف پیش قدمی لازمی ہے-
عالمی کانفرنس کا عنوان’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے‘‘ تھا جس کی صدارت جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کی- کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصی کے سابق امام شیخ محمد صیام نے کہا کہ مسلمان اپنے وعدے پر قائم ہیں اور وہ قبلہ اول کو یہودی قبضے سے آزادی کر دم لیں گے- فلسطینی بھائیوں کی حمایت پر انہوں نے مسلم ممالک کے تعاون کا شکریہ ادا کیا- ایران سے کانفرنس میں شریک رہنما جلال الدین نے کہا کہ مسلم ممالک کے عوام میں کوئی تفریق نہیں ہے رنگ اور نسل کی تفریق ان میں کوئی فرق پیدا نہیں کر سکتی ہے- امت کی وحدت ہی دراصل امام خمینی کا پیغام تھا- ہمارا پیغام امن ہے مگر دشمن ہمارا ہی خون بہا رہا ہے- ایسے میں دشمن کے مقابلے کے لئے باہمی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ ہم شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کے لئے ایک سمینار منعقد کر رہے ہیں- عزیز عبدالرزاق نے کہا کہ مسلمانوں میں اتحاد اور ان کے وسائل کی باہمی طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے- ہمارے دشمن مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہو رہے ہیں - عراق اور فلسطین افغانستان اس کی مثال ہیں-
 


مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور یہ ایک المیہ ہے کہ اسلام میانہ روی کا دین ہے اس کا انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے - غیر ملکی قوتیں مسلمان ممالک میں نظام تباہ کر رہی ہیں اور ہمیں جمہوریت کے حوالے سے قیمت ادا کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے- انہوں نے کہا کہ مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کریں - مسلم ممالک کے اتحاد میں ہی کامیابی ہے- مسلمانوں کی حکومتیں ان کے حقوق غصب کر رہی ہیں- ترکی کے نجم الدین اربکان کی جانب سے ترک رہنما رجائی بوتان نے قاضی حسین احمد کو تحفہ پیش کیا- انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اجتماععام کاانعقاد بہت ہی بڑی پیش رفت ہے - یہ اجتماع کارکنوں کی جدوجہد کی کامیابی کاذریعہ بنے گا-98 ء کی طرح اب بھی پاکستان نے پر مسرت محسوس کر رہا ہوں - انہوں نے کہاکہ مسلمان ممالک پر قبضہ کیا جارہا ہے اور کئی ایسی دھمکیوں کا شکار ہیں - دہشت گردی کو بہانہ بنا کر مسلمان مردوں خواتین بچوں کو قتل اور شہید کیا جارہاہے - ابو غریب جیل کشمیر افغانستان فلسطین پر تشدد پر شدید احتجاج کرتاہوں - روس کے ٹوٹ جانے کے بعد 11 ستمبر کا واقعہ ہوا - امریکہ نے اس پر مسلمان ممالک پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے - ہم دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے - مظلوم انسانوں کے قتل کی حمایت نہیں کی جا سکتی - عیسائی اور یہودی لابی امریکہ کو مسلمانوں کے خلاف طیش دلا رہی ہیں - افغانستان عراق کے بعد سوڈان کی باری ہے - ایران اور پاکستان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں - امریکہ اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا راستہ میڈیا صنعت اور وسائل کے ذریعے روکا جا سکتاہے - یہ عزائم روکے جاسکتے ہیں اور ہمیں آگے بڑھ کر انہیں روکنا چاہیے - پاکستان بنگلہ دیش، ترکی، الجزائر، ایران، سوڈان کو شامل کر کے ایک مضبوط اور وسیع اتحاد بناناچاہیے تاکہ مسلم دشمن قوتوں کامقابلہ کیا جاسکے - ان کی مشترکہ کرنسی منڈی اور تنظیم بنائی جائے اور ان کی متحدہ مجلس عمل بنائی جائے ، یہ فی الحال مشکل ہے لیکن اس پر کام کیا جاسکتا ہے -
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر ابوالکلام محمد یوسف نے کہاہے کہ استعمار کا زمانہ ابھی جاری ہے - کشمیر فلسطین سوڈان بنگلہ دیش افغانستان عراق میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہاہے - کشمیر اور فلسطین صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے - کوئی مہذب قوم اور ملک اس طرح کا ظلم نہیں کر سکتا ہے - یہ واضح ہے کہ یہ مسائل عالمی سلامتی کا مسئلہ ہے - اب دنیا ان مسائل کے حل پر زور دے رہی ہے - اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بطروس غالی نے بھی امریکہ سے مطالبہ کیاہے کہ یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے - حریت پسند دہشت گرد نہیں ہیں - حریت پسندی کی تحریک کو دہشت گردی قرار دینا غلط ہے - کشمیر فلسطین کی تحریک حریت کی تحریکیں ہیں -
جماعت اسلامی ہند کے امیرعبدالحق انصاری نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کو اپنے تمام سیاسی تنازعات اور کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے عمل کے ذریعے حل کرنا چاہیے - ہم ایسی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں - انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق سیاسی معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہم کوششوں کی حمایت کرتے ہیں - ہماری جماعت نے پارلیمانی رول ادا کیے ہیں اور مثبت نتائج ملے ہیں - یہ سلسلہ جاری رہے گا - ہم اپنے وابستگان کی سیاسی دینی تربیت کر رہے ہیں تاکہ ہم سیاسی رول ادا کر سکیں - انہوں نے کہاکہ افغانستان عراق فلسطین شیشان کے سیاسی مسائل کے حل کی ضرورت ہے اور ھماری پالیسی ہے کہ ایسی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے - انہوں نے کہاکہ مسلم متاثرہ خاندان گجرات کے متاثرین کے لیے 6 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں اور ہم غیر مسلموں کے لیے ایسی اعانت کر رہے ہیں - انہوں نے کہاکہ قرآن و حدیث اور دینی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم جاری ہے اور تمام زبانوں میں شائع کی جا رہی ہے - انہوں نے جمہوری جدوجہد کو اپنی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ میڈیا کو ہم اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں - امید ہے یہاں بھی جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہو گی- انہوں نے کہا کہ عراق افغانستان میں طاقت آزمائی جا رہی ہے - یہ راستہ ترک کر دیں تو جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے - بڑی طاقتوں کو اپنے سیاسی فکر پر نظر ثانی کرنی چاہیے - بوسنیا شیشان کے مسائل ہمارے سامنے ہیں - انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے نام پر غیر مسلم ممالک میں اقلیتوں اور مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہاہے - ان کے بارے میں یہ رویہ نامناسب ہے - اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی ان امتیازی کوششوں کو روکے تا کہ اس کی ساکھ برقرار رہ سکے - اس پر عالمی طاقتوں کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے اور دنیا کو اس میں اپنا رول ملنا چاہیے -
عراق کے رہنما علی عبدالحئی نے کہا کہ یوسف القرضاوی کی کونسل کی طرف سے اجتماع میں یا ہوں - عراق میں امریکہ کی فوجی قوت عراقی عوام سے شکست کھا چکی ہے اور اس کی سیاسی قوت بھی شکست کھائے گی - عراق کے عوام خالی ہاتھ ہونے کے باوجود فرعونیت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں - انہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان کے بعد روس ٹوٹ گیا عراق کے بعد امریکہ بھی ٹوٹ جائے گا اور اس کا نام و نشان مٹ جائے گا - انہوں نے کہاکہ اسلام کی نصرت نے والی ہے - اس کا غاز برصغیر سے ہوگا - یہ اجتماع اس کی مثال ہے -
متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجلس عمل کارکنوں کی وجہ سے متحد ہے - یہ مثال پوری دنیا میں مسلم اتحاد کی صورت اختیار کرے گی اور اسی طرح عالمی استعمار کا مقابلہ ہوگا - اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کامیاب اجتماع عام پر کارکن جماعت اسلامی باعث مبارکباد ہیں - انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش کے رہنما نے ایم ایم اے کے بارے میں نیک جذبات کا اظہار کیا ہے یہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس کے ذریعے سے مسلم دنیا استعمار کا مقابلہ کیا جا سکتاہے - امریکہ اور اس سے بڑی قوت کسی جگہ نہیں ٹھہر سکے گی - انہو ں نے کہا کہ یہ اتحاد امت مسلمہ کی وحدت کی ایک مثال ہے اس کی اجتماع میں شریک عالمی اسلامی رہنما اس کی مثال ہیں - وقت بہت جلد آئے گا کہ پوری مسلم دنیا متحد ہو گی - ایم ایم اے کارکنوں کی وجہ سے متحد ہے - انہوں نے کہاکہ ترکی، سوڈان ، بنگلہ دیش، ایران کی متحدہ مجلس عمل بھی عالمی استعمار کا مقابلہ کرے گی -